| https://fazalehaqoffical.blogspot.com |
اللہ رب العزت نے کن کہہ کر تمام ارواح کو پیدافرمایااور روزِالست
اُن ارواح سے وعدہ لیاکہ’’میں تمہارارب ہوں؟‘‘جہاں بے شمار ارواح نے ’’قالو بلیٰ
‘‘ کہہ کر اقرارکیاتوبے شمار ارواح نے اِس عہد سے انکارکردِیااقرار والی ارواح اہل
حق ٹھہریں اور حزب اللہ قرار پائیں اورانکاروالی ارواح باطل اور حزب الشیطان ٹھہریں،یہیں
سے حق اور باطل کے درمیان کشمکش کاآغازہوگیا،اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام
کو جب دُنیا میں بھیجا تو نسل ِ انسانی بھی عالم ناسوت میںبڑھنے لگی حق اور باطل ارواح
کی کشمکش اِس دنیا میں بھی قائم رہی اہل حق اللہ کی وحدانیت کا پرچار کرتے رہے اور
حزب الشیطان نے اُن کی مخالفت کی،یہ سلسلہ تمام انبیاء کی اُمتوں میں چلتارہا،اللہ
تعالیٰ نے نبوت کے سلسلے کو اپنے حبیب حضرت محمد ؐ پر تمام کردیا،جب آقائے دوعالم
حضرت سیدنا محمدؐ نے اپنی نبوت کااعلان فرمایا تواہل کفر مخالف ہوگئے۔ اہل حق کوجہاں
ہر طرح کی تکالیف اور مشکلوں سے گزرنا پڑاوہاں میدان جنگ میں بھی حق وباطل کے درمیان
معرکہ آرائی ہوئی اللہ کے دین کی خاطر خاص اللہ کی رضا کیلئے جوجنگیں لڑی گئیں انہیں
جہادجیسی عبادت کاشرف حاصل ہواجس جنگ میں اللہ کے حبیب خاتم الانبیاء حضرت محمدؐنے
بنفس نفیس شرکت فرمائی اُسی جنگ کو غزوہ کہتے ہیں،حق وباطل کے درمیان اِس معرکہ آرائی
میں سب سے پہلی جنگ جو بدر کے مقام پر لڑی گئی اسے غزوہ بدر کے نام سے یاد کیاجاتاہے،جس
میں اہل حق کی تعداد صرف 313تھی لیکن اللہ کی مدد ونصرت سے انہیں فتح نصیب ہوئی۔آپ
ؐ نے فتح مکہ تک مختلف غزوات میں شرکت فرمائی فتح مکہ کے بعد آپؐ نے عالم ناسوت سے
ظاہری پردہ فرمایا لیکن حق وباطل کی یہ کشمکش قیامت تک جاری ہے اور رہے گی اِس سلسلے
میں آپؐ نے قربِ قیامت کے نزدیک حق وباطل کے درمیان آخری بڑے معرکوں کاذکر احادیث
مبارکہ میں فرمایا جس میں ایک بڑا معرکہ وہ ہے جو دجال کے ساتھ جنگ ہے اور دوسرے بڑے
معرکے کاذکر احادیث میں غزوہ ٔ ہندکے نام سے آیاہے غزوۂ ہندکاذکر احادیث اور روایات
میں بے شمار جگہ پر ملتاہے،ذیل میں ہم مضمون کے اختصارکیلئے ایک حدیث کاحوالہ دیتے
ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ؐنے ہندوستان کاتذکرہ کیااور
ارشاد فرمایا: ’’ضرور تمہاراایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گااللہ اُن مجاہدین کا فتح
عطافرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین)اِن (ہندوئوں) کے بادشاہوں (حاکموں)کوبیڑیوں میں
جکڑکر لائیں گے اور اللہ (اس جہادِ عظیم کی برکت سے)اِن مجاہدین کی مغفرت فرمائے گا،پھر
جب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم ؑ کو شام میں پائیں گے۔حضرت ابوہریرہؓ
نے فرمایا : اگر میں نے وہ غزوہ پایا تواپنا اور پرایا سب مال بیچ دئوں گااور اس میں
شرکت کروں گاجب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطاکردی اور ہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزاد
ابوہریرہؓ ہوں گا جو ملک شام میں (اس شان) سے آئے گاکہ وہاں عیسیٰ ابن مریم ؑ کو پائے
گا،یارسول اللہ! اس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے پاس پہنچ کر انہیں بتائوں
کہ میں آپؐ کاصحابی ہوں۔‘‘(راوی کابیان ہے) کہ حضور ؐ مسکراپڑے۔غزوات کی تاریخ کواگر
مد ِنظر رکھاجائے تو غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس جنگ میں حضرت محمدؐنے بنفس نفیس شرکت
فرمائی ہوایک بڑاسوال جوغزوہ ٔ ہند کے بارے میں ذہن میں آتاہے وہ یہ کہ قریباً1400سوسال
پہلے آقائے دوعالم ؐنے اس عالم ناسوت سے ظاہری پردہ فرمالیاتو یہ جنگ غزوہ کس طرح
ہوگی؟اِس راز کو علماء حضرات نہ سمجھ سکے جب بھی کسی نے ایسا سوال کیاکہ غزوہ ٔ ہند
غزوہ کیونکر ہوگا؟توجواب میں جنگ کی اہمیت اور فضیلت بیان کرکے جواب گول کردیاجاتاہے
لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا :’’اگرتمہاری عقل ودلیل کسی مسئلے
کو نہ سمجھ سکے تواہل ذکر سے پوچھ لیاکرو۔‘‘آئیے دورِ حاضر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت
سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی جن کامشن ہی اللہ کے ذکر کی دعوت ہے اُنکی
تعلیمات اور فرمودات کی روشنی میں اس حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں،غزوۂ ہند کے
بارے میں جو احادیث مبارکہ حضرت ابوہریرہؓ نے مروی ہیں اُن پر غور کیاجائے تو یہ حقیقت
عیاں ہوتی ہے کہ اِن تمام احادیث میں ایک بات مشترک ہے کہ ایک طرف اہل حق اگرغزوۂ
ہند میں مصروف ہونگے توعین اُسی وقت اِس روئے زمین پر حضرت عیسیٰ بھی حق کے مشن کوپھیلانے
میں مصروفِ عمل ہونگے دورِ آخر کی احادیث مبارکہ کاجائزہ لیاجائے تواس بات میں کوئی
شک وشبہ نہیں رہتاکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سیدنا امام مہدیؑ کے وقت ہی ہوگی حضرت عیسیٰ
ؑ جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو امام مہدی علیہ السلام کے دست ِ حق پرست پر
بیعت کرینگے اُنکے پیچھے نماز اداکرینگے اور حق وباطل کے تمام معرکوں میں امام مہدیؑ
کے ساتھ ہونگے حتیٰ کہ دجال کاخاتمہ فرمائیں گے اِن حقائق کی روشنی میں اگر ہم غزوۂ
ہند کے وقت کا تعین کرناچاہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ جنگ امام مہدیؑ کی موجودگی
میں ہوگی اور اُس وقت روئے زمین پر حضرت عیسیٰ ؑ بھی موجود ہونگے امام مہدیؑ کی ذات
ِ اقدس کے بارے میں بے شمار احادیث مبارکہ موجودہیں۔ایک حدیث کے مطابق جب آقائے دوعالمؐ
اپنے اصحاب کو امام مہدیؑ کاحلیہ مبارک بتارہے تھے تو اصحابہ کرام ؓ نے عرض کی یارسول
اللہؓ !اس حلیہ سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ آپؐ خود ہی ہونگے یہ بات سن کر آپؐ مسکرادئیے،اس
عظیم روحانی راز کو مرشد پاک حضرت سیدناریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی نے کچھ اس
طرح سے واضح فرمایا کہ : ’’ تمام انسانوں کی ارضی ارواح اس دنیا میں کئی بار دوسرے
جسموں میں جنم لیتی ہیں پاکیزہ لوگوں کی ارواح پاکیزہ جسموں میں جبکہ حضور پاکؐ کی
ارضی ارواح کو امام مہدیؑ کیلئے روکاہواتھاجس طرح آپؐ کے جسم کے کسی بھی علیحدہ حصے
یعنی ہاتھ یاپائوں کو بھی آمنہ کالعل کہہ سکتے ہیں اِسی طرح حضور پاکؐ کی سماوی روح
کے کسی علیحدہ حصے کو بھی عبداللہ کافرزند اور آمنہ کالعل کہاجاسکتاہے اہل بیت کی
ارواح بھی اہل بیت میں ہی شامل ہیں۔‘‘محترم قارئین! امام مہدیؑ کے حلیہ مبارک کے بارے
میں صحابہ کرامؓ کے اِس سوال پر کہ یارسولؐ اللہ آپ خود ہی ہونگے،آپؐ کامسکرادینا
اور امام مہدیؑ کے جسم لطیف کی وضاحت کے بعد روحانیت غزوۂ ہند کی حقیقت کو اس طرح
سے عیاں کرتی ہے کہ چونکہ یہ جنگ امام مہدیؑ کی قیادت میں ہوگی اور امام مہدیؑ کے جسم
لطیف میں آپؐ کی ارضی ارواح ہونگی لہٰذادورِ آخر میں ہونے والا حق وباطل کایہ عظیم
معرکہ صرف اور صرف اما م مہدیؑ کی نسبت اور قیادت کی وجہ سے ہی غزوۂ ہند کہلائے گاامام
مہدیؑ کے خاص اصحا ب جنکی تعداد غزوۂ بدر کی نسبت سے 313ہوگی اس غزوہ سے فارغ ہونے
کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ مل جائیں گے جوپہلے ہی امام مہدیؑ کی قیادت میں مصروفِ
عمل ہونگے ،آج جولوگ غزوہ ٔ ہند کی بات کرتے ہیں انہیں اس حقیقت کو سمجھناچاہئے کہ
یہ کتنی سعادت ہوگی کہ غزوۂ امام مہدیؑ کی قیادت میں ہوگالیکن ضرورت اِس اَمر کی ہے
کہ امام مہدیؑ کو کس طرح پہچاناجائے تاکہ اُن کاساتھ دیاجاسکے ؟مرشد پاک حضرت سیدناریاض
احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی نے اس سلسلے میں اللہ کے ذکر اسم ذات کو پہچان قراردیا
ہے اور فرمایاہے کہ وہ لوگ جن کے قلوب اسم ذات کے ذکر سے منور ہونگے وہ امام مہدیؑ
کو پہچان لیں گے آئیے!اور اپنے قلوب اسم اللہ سے منور کرنے کیلئے ذکر قلب کی اجازت
حاصل کریں تاکہ دورِ آخر میں حضرت سیدنا امام مہدیؑ کو پہچاناجاسکے وگر نہ زبانی دعوے
کچھ ساتھ نہ دینگے۔
0 تبصرے