محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یادِ حسینؑ

(گوجرخان)

۹محرم الحرام بمطابق 16جولائی،2024ءبروز منگل المرکزروحانی گوجرخان میں شہداء کربلااور حضرت سیّدناامام حسین ؑ کی یاد میں اور عرس مبارک حضرت سیّدنامنہاس گوہرشہید زیرسرپرستی حضرت سیّدناپرویز اخترگوہرشاہی مدظلہ العالی منعقد کی گئی جس میں مقامی خواتین و حضرات کے علاوہ پاکستان کے دیگرشہروں سے بھی عوام الناس اور ذاکرین نے بھرپور شرکت کی۔

محفل کاآغاز صبح دس بجے کلام الٰہی سے کیاگیا۔جناب یٰسین قادری نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی،کمپیئرنگ کے فرائض جناب غلام حسین قادری نے سرانجام دئیے ۔جناب یٰسین قادری،جناب مہر اللہ یارقادری اور جناب تصور عباس نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں نعتوں کے نزرانے پیش فرمائے۔جناب محمد اشفاق نے مولاعلی کرم اللہ وجہہ کی شان میں منقبت پیش کی۔جناب محمد ارشاد قادری،جناب محمد اعظم،جناب سید حسن منظور گیلانی،جناب تنویراحمد شاہی،جناب سید زریاب حیدراور جناب حافظ ناصر گیلانی نے سیّدناامام حسین ؑ اور شہداء کربلا اور شہزادہ منہاس گوہر شہید کی شان میں مناقب پیش کیئے۔جناب رضوان بٹ نے سرکار غو ث پاکؓ کی شان میں منقبت پیش کی۔جناب محمد نذیر،جناب لیاقت علی قادری اور جناب شفیع الرافان نے مرشد کریم کی شان میں قصیدے پیش کیے۔

صوبائی امیر جناب محمد ساجد سہیل نے شرکاء سے گفتگوکرتے ہوئے فرمایاکہ واقعہ کربلا کوئی کفراور اسلام کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ حق اور باطل کامعرکہ تھا ۔یہ اِس اُمت کے لیے درس ہے کہ وہ حق کاساتھ دیں چاہے اس کے لیے جان ومال اور کنبے کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔اُنہوں نے کہاکہ کفراور اسلام میں تمیز کرنا بہت ہی آسان ہے لیکن حق اور باطل میں تمیز کرنا بہت ہی مشکل ہے اگریہ اتنا آسان ہوتا تو بظاہر کلمہ گو،حافظ قرآن میدانِ کربلا میں امام حسین ؑ کو تنہابے یارومددگار چھوڑکریزید کی بیعت نہ کرتے۔اور یہ واقعہ اُس عظیم واقعے کاآغازتھا جس دورِ آخرمیں فتنہ دجال کے روپ میں سامنے آئے گا،جب وہ کلمہ گو حافظ قرآن حضرت سیّدنا امام حسینؑ کو پہچان نہ سکے تو موجودہ دور میں لوگ حق اور باطل میں کیسے تمیز کرسکتے ہیں؟ہمارے مرشد پاک حضرت سیّدناریاض احمد گوہرشاہی مدظلہ العالی کی تعلیمات کی روشنی میں حق اور باطل کی پہچان کا واحد ذریعہ اللہ کانور ہے،جس دِل میں اللہ کانور ہوگاوہ حق اور باطل کی پہچان کرسکے گا ۔دورِ حاضرمیں منجانب اللہ وہ ذاتِ روحانی موجود ہے جس نے مرشد کریم کے مشن کے لیے اپنا چین،آرام اورسب کچھ چھوڑ کر قریہ قریہ،بستی بستی اسم ذات کے اس نور کو پھیلانے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔اور یہی وہ ہستی ہے جس نے اس قافلہ عشق کو اپنی منزل مقصود تک پہنچاناہے۔

سرکارپاک نے شرکاء محفل کو ذکرقلب عطافرمایا۔اور دوپہر ڈیڑھ بجے محفل کے اختتام پر شرکاء کو لنگرپیش کیاگیا اور اسکے بعد تمام شرکاء کو رخصت عام دی گئی۔

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)

محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)
محفل یاد حسینؑ (گوجرخان)