روحانیت کیاہے؟
روحانیت کیاہے؟

اس دنیا میں ہزاروں لوگ تصوف سے وابستہ ہیں اور ہزاروں وابستہ رہ چکے ہیں لیکن کثیر تعداد میں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جنہیں یہ نہیں پتا کہ تصوف یاروحانیت ہوتی کیاہے اور یہ کہ اولیاء اللہ کی تعلیمات کیاہوتی ہیں اور تعلیم کاکیامقصد ہوتاہے؟زیر نظر مضمون اسی نقطہ کی وضاحت کے بارے میں تفصیل کے ساتھ رقم کیاگیاہے تاکہ وہ لوگ جوروحانیت یاتصوف کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اُنہیں آگاہی ہوسکے،اولیاء اللہ کی تعلیمات کا مرکز ومحور اللہ کی محبت کو دِلوں میں بسانا اور عام کرنا ہے یہی وہ تعلیم ہے جو جناب حضور غوث پاکؓ نے دی جو داتا علی ہجویریؒ نے دی،جومعین الدین چشتی اجمیری ؒ نے دی،حضرت امام بری سرکارؒ نے دی،سلطان باھُو ؒ نے دی،سخی شہباز قلندرؒ نے دی،برصغیر میں اسلام انہی ہستیوں کی بدولت پھیلایہ اولیاء اللہ ہی تھے جنہوں نے اپنی روحانی قوت سے لوگوں کے دِلوں کو منور کیاحضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے نوے لاکھ ہندوئوں کو کسی بحث میں اُلجھائے بغیر اپنے فیضانِ نظر سے مسلمان کیا،آج پاکستان کاوجود انہیں بزرگوں کامرہونِ منت ہے جنہوںنے کروڑوں لوگوں کو مسلمان کیا اور پھر انہی مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ مملکت حاصل کی جو پاکستان کہلائی۔اس دنیا میں آج بھی اللہ کے برگزیدہ بندے شیطانی قوتوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ فعال ہیں اور حق کے متلاشی لوگوں کو اللہ سے ملارہے ہیں آپ یقین کریں کہ جس طرح انٹرنیٹ،ڈش،وی سی آر اور ٹی وی اور سمارٹ فونزجیسی جدید ایجادات کو شیطانی قوتیں بدی کے فروغ کیلئے پوری طرح استعمال کررہی ہیں اِسی طرح تمام سلسلوں کے بزرگان بھی لوگوں کو شیطانی ہتھکنڈوں سے بچانے کیلئے پہلے سے زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں اب یہ دولت اس طرح عام کردی گئی ہے کہ آج ہر عمر اورہر فرقے کے لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں،آج بھی اللہ کے برگزیدہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نہ صرف یہ کہ تمام رازوں کو کھول رہے ہیں بلکہ وہ طالبین حق کو مجلس محمدیﷺ میں بھی پہنچارہے ہیں اور انہیں اللہ سے بھی ملارہے ہیں،یہی تعلیم طریقت کہلاتی ہے تصوف کہلاتی ہے اور روحانیت کہلاتی ہے،طریقت کی تعلیم اپنے اندر کوجاننا ہے ،اپنی روح کو توانا کرناہے اپنے قلب کو اللہ اللہ میں لگاناہے اور اپنے نفس سے آگاہی حاصل کرناہے حضور پاکﷺ نے فرمایا ہے :  ’’من عرف نفسہ‘فقد عرف ربہ‘‘‘ یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا،اس راستے کاآغاز ذکر قلب اور اسم ذات اللہ کے تصور سے شروع ہوتاہے قلب جاری اسی کاہوتاہے جس کو اللہ چاہتاہے اور جس کی ضمانت سرکارغوث پاکؓ دیتے ہیں اس لئے جو بھی ذاکرِ قلبی ہوتاہے وہ سرکار غوث پاکؓ کا مریدہوتاہے۔ہمارے اعمال کاقلب کے ساتھ بہت گہراتعلق ہے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’تمہارے جسم میں ایک گوشت کالوتھڑاہے اگروہ سنور گیا توساراجسم سنور گیا اور وہ گوشت کالوتھڑاقلب ہے‘‘۔جب کوئی بندہ گناہ کرتاہے تواس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ آجاتاہے جوں جوں وہ بندہ گناہ کرتارہتاہے اس کا دل سیاہ نقطوں سے بھرتارہتاہے حتیٰ کہ سارادِل ہی سیاہ ہوجاتاہے تب خیالات تبدیل ہونے لگتے ہیں دلچسپیاں بدلنے لگتی ہیں عقائد بدلنے لگتے ہیں،اچھائی سے دِل اُچاٹ ہونے لگتاہے برائی اور فواحش میں مزہ آنے لگتاہے آدمی رفتہ رفتہ شیطان سے قریب اور رحمن سے دور ہونے لگتاہے پھر جب تک دِل کی سیاہی دور نہ ہو کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی اور نہ اعمال بہترہوتے ہیں حضور پاک ﷺ نے فرمایا: ’’ہرچیز کی صفائی کاایک آلہ ہے اور قلب کی صفائی کاآلہ ذکر اللہ ہے،‘‘چنانچہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے قلوب کو ذکر اللہ سے صاف کریں کیونکہ آقائے دوجہاں ﷺ نے واضح فرمادیا کہ : ’’اللہ تمہارے اعمال کو نہیں بلکہ تمہاری نیتوںکودیکھتاہے۔‘‘جب قلب کی طرف متوجہ نہیں ہوگا تو اعمال میں اخلاص پیدانہیں ہوگا جب اخلاص نہیں ہوگا تو وہ عمل مقبول نہیں ہوگا حضور پاکﷺ نے فرمایا : ’’لاصلوٰۃ الابحضورِ قلب‘‘ یعنی قلب کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔قلب کیاہے؟حضور ﷺ نے فرمایا : ’’فواد قلب میں ہے،‘‘یعنی گوشت کاوہ لوتھڑا جس کاکام خون جسم کو پہنچاناہے جسے عربی میں فواد کہتے ہیں وہ قلب کے اندر ہے یعنی قلب وہ لطیف نوری جسم ہے جو دِل کے اوپر محوِ خواب ہے دل تو تمام جانداروں کے اندر ہوتاہے مگر قلب اللہ پاک نے صرف انسان کے اندر رکھاہے اس کو اگر بیدار نہ کیاجائے تو یہ خوابیدگی کی حالت میں ہی مرجاتاہے جیساکہ اکثر لوگوں کے ساتھ ہوتاہے،اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ عام طورپر چالیس سال کی عمر تک قلب مردہ نہیں ہوتااگراعمال خراب ہوں تو یہ پہلے بھی مردہ ہوجاتاہے اوراگر اعمال صالح ہوں تو یہ چالیس سال کے بعد بھی زندہ رہتاہے اور بیدارہوسکتاہے مگرعمر گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتاجاتاہے،نوجوانوں کے قلوب بہت جلد تھوڑی سے کوشش سے بیدارہوجاتے ہیں،جس طرح مرغی کے بچے انڈے سے نکلتے ہی چوں چوں کرناشروع کردیتے ہیں اسی طرح قلوب بھی بیدارہوتے ہیں اللہ اللہ شروع کردیتے ہیں اِن کو سکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اللہ اللہ اِن کی فطرت ہے۔سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں ’’جب قلب ایک بار اللہ کہتاہے تو یہ زبان سے ستر مرتبہ اللہ اللہ کہنے سے بہترہے۔‘‘جب قلب اندر ہی اندر اللہ اللہ کرتاہے تو اِردگرد والوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوپاتا اس لئے اِ س میں ریانہیں ہوتا اور یہ خالص عبادت ہے جو صرف اللہ اور بندے کے درمیان ہوتی ہے اس کو ذِکرِ قلبی کہتے ہیں۔انسانی جسم میں قلب کی مانند چھ مزید لطیف نوری مخلوقات جسم میں مختلف مقامات پر خوابیدہ حالت میں ہیں جن کو لطائف کہاجاتاہے،ذکرقلبی سے جو نور پیداہوتاہے وہ قلب سیراب ہوجانے کے بعد دوسرے لطائف کو بیدارکرتاہے اور یوں انسان کے قلب کے علاوہ بھی تمام لطائف بیدارہوجاتے ہیں اور ہمہ وقت اللہ کے ذکر میں مصروف ہوجاتے ہیں ہر اگلے لطیفے کاذکر پہلے والے سے ستر گنا زیادہ فضیلت رکھتاہے،روحانیت کایہ علم ہمیں قرآن کریم،حضور پاکﷺ کی احادیث مبارکہ اور اولیاء اللہ کی تعلیمات سے ملتاہے،مولانارومؒ فرماتے ہیں :  ’’دِل بدست آور کہ حج اکبر است‘‘(ترجمہ)اگرقلب کی دولت ہاتھ آجائے تو یہ اس طرح ہے جیسے حج اکبر نصیب ہوگیا،اس لئے لازم ہے کہ اپنے قلوب کو بیدار کرنے کیلئے ہمیں وہ تمام اسباب اختیار کرنے چاہئیں جو میسر ہوںاس کے لئے ہمیں کثرت سے ذکر الٰہی کرناہوگا،ذکر اللہ کی کثرت ہی ہمارے قلوب کو بیدارکرے گی،قلوب کو بیدارکرنے کاایک آسان راستہ بزرگانِ دین کافیض بھی ہے یہ اولیاء اللہ اپنی نظر سے یکدم نورطالب کے قلوب میں منتقل کرتے ہیں جس طرح کھڑی ہوئی گاڑی کو کوئی اپنی قوت سے رواں کردے جب یہ چل پڑتی ہے توپھر اس کے اپنے سسٹم چالوہوجاتے ہیں ،ہردور میں اِن اولیاء اللہ نے اپنے نورِ نظر سے لوگوں کے قلوب کومنور کیا۔جب قلب ذکرکرتاہے تودل کی سیاہی ذکر کے نور سے جاتی رہتی ہے اور دل خودبخود اچھائی اور نیکی کی طرف مائل ہوجاتاہے ،اللہ کی محبت پیداہوناشروع ہوجاتی ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ زبان پر توآپکا کنٹرول ہے آپ جب چاہیں اسے حرکت میں لاکر اللہ کاذکر کرسکتے ہیں مگرقلب پر آپ کا کنٹرول نہیں،قلب اللہ کے کنٹرول میں ہے،یہ تب بیدار ہوگا اور حرکت کرے گا جب اللہ چاہے گا،قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’فاذکرونی اذکرکم،‘‘یعنی تم میراذکر کرو میں تمہاراذکر کروں گا۔اس اصول کے تحت جب آپ اللہ کاذکر کریں گے تواللہ بھی آپ کاذکر کرے گاجب آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرینگے تو اللہ بھی ہر وقت آپ کا ذکر کرے گا،چنانچہ جب اللہ آپ کا ذکر کرناپسند کرے گا توآپ کے قلب کو اپنے ذکر میں جاری فرمادے گا،جب قلب کاذکر جاری ہوتاہے توپھر یہ رکتانہیں ہے چاہے آپ سورہے ہوں یاجاگ رہے ہوںیادنیاوی کاموں میں مصروف ہوں،حضور پاک ﷺ نے فرمایا: ’’ینام عینی ولاینام قلبی،‘‘یعنی میں سوتا ہوںمگر میرا قلب نہیں سوتا،اگراللہ تعالیٰ آپ کا ذکر کرنا پسند نہیں کرے گا توآپ کو اپنے ذکر کی توفیق نہیں دے گا۔آپ جانتے ہیں کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں توحید،نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ،مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے بندہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے یعنی اللہ کے سوا تمام معبودوں کی نفی کردے اور کہے ،لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ،یہ اسلام کاپہلارکن ہے جب اس نے یہ کرلیا تو مسلمان ہوگیاپھر اس پر دوسرے فرائض عائد ہوگئے کہ اس نے چوبیس گھنٹوںمیں پانچ مرتبہ نماز پڑھنی ہے،ماہ رمضان میں روزے رکھنے ہیں،صاحب نصاب ہے تو زکوٰ ۃ اداکرنی ہے اور توفیق ہے تو حج اداکرناہے اس کی زندگی کے شیڈول میں یہ فرائض لازماًشامل ہونگے،یہ تمام فرائض اپنے اپنے مخصوص وقت پر اداکرناضروری ہیں اس بات سے قطع نظر کہ جی چاہ رہاہے یانہیں،حج زندگی میں ایک مرتبہ،روزے اور زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ اور نماز دِن میں پانچ مرتبہ،دس منٹ صبح ،پندرہ منٹ دوپہر،دس منٹ سہ پہر،پندرہ منٹ مغرب،اور پچیس منٹ رات کو ،چوبیس گھنٹوںمیں تقریباً سواگھنٹہ اس عبادت کے لئے ہے باقی پونے ۲۳گھنٹے دوسرے کاموں کیلئے،کھانے پینے اور آرام کے لئے ہیں،حضور پاکﷺ نے دنیاوی کاموں کے لئے نمونہ عطاکردیاہے اگردنیا کاہرکام اسی طرح سے کریں جس طرح حضور پاکﷺ نے کیا تودنیاوی کام بھی عبادت میں شمار ہونگے۔اسلام کاپہلارکن وہ فرض ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہے اور ہمارے دنیاوی کاموں میں بھی تعطل نہیں ڈالتا،اگرہم مسلسل نماز پڑھتے ہیں توتھکاوٹ کے ساتھ ساتھ روزی کمانے کامسئلہ،کنبے کی نگہداشت،بچوں کی تربیت کامسئلہ پیداہوجائیگا،چونکہ اسلام دوسروں کے حقوق،دنیاوی ذمہ داریاں پوری کرنے پر بھی زوردیتاہے وہ پوری کرنامسئلہ ہوجائے گا۔مسلسل روزوں کی سکت بھی ہم میں نہیں مگر ہم اپنی تمام مصروفیات کے دوران لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ دل ہی دل میں کہتے رہیں تو یہ پہلا بنیادی فرض بھی پوراہوتارہے گااور ہمارے معمولات میں بھی کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہوگا،چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف توحید ہی کل وقتی عبادت ہے جس سے ہم اللہ کو یادکرتے ہیں یعنی یہ دائمی فرض ہے اور باقی وقتی فرائض ہیں،ایساہرگز نہیں ہے کہ دِن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھیں اور بقیہ وقت ہم اللہ کوبھولے رہیں۔حضور پاکﷺ نے فرمایاہے :  ’’من لم یود الفرض الدائم لم یتقبل اللہ عنہ فرض الوقت،‘‘(ترجمہ) جوکوئی خداتعالیٰ کے دائمی فرض کو ادانہ کرے اللہ اس کے وقت فرائض کو قبول نہیں کرتا۔اگرہم قرآن میں غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ توسب سے پہلااہم دائمی فرض ہے اللہ پاک نے قرآن میں بار بار اس کا حکم دیاہے،جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’واذاقضیتم الصلوٰۃ فاذکراللہ قیاماًوقعوداًوعلی جنوبکم‘‘(ترجمہ)یعنی جب تم نمازوں سے فارغ ہو جائو تو اللہ کاذکر کروکھڑے بیٹھے اور کروٹوں کے بل۔آپ اگرغورفرمائیں تو معلوم ہوگا کہ اس میں یہ انداز اختیار نہیں کیاگیاکہ اگر تم ایساکروتو یہ تمہارے لئے بہترہے جیساکہ دوسرے احکامات کے بارے آیاہے،بلکہ اس میں واضح اوردوٹوک حکم دیاگیا ہے کہ ایساکرو،اورقرآن میں یہ حکم بار باردیاگیاہے کہ اللہ کاذکرکرواور کثرت سے کرو۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اللہ کاذکر کثرت سے کروتاکہ فلاح پاجائو‘‘،ایک اور جگہ فرمایا ’’اللہ کاذکرکروجس طرح تم اپنے آبائواجداد کاذکرکرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ‘‘،چنانچہ اس میں اللہ پاک واضح حکم دے رہاہے کوئی تجویز پیش نہیں کررہا یہ اس لئے ہے کہ ہم ہروقت اس سے رابطہ رکھیںاوراسی لئے اللہ پاک فرماتاہے’’تم میراذکرکرو میں تمہاراذکرکروں گا‘‘،ہم اللہ کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں جب اللہ پاک بار بار یہ حکم فرمارہاہے کہ اللہ کاذکرکروتویہ خیال ذہن میں آتاہے کہ کیاذکرکیاجائے؟اللہ کی حمدوتعریف کے بے شمار ذکرہیں،جیسے الحمدللہ،سبحان اللہ،اللہ اکبر،اور اللہ پاک نے فرمایاہے میرے اچھے اور خوبصورت ناموں سے مجھے پکارو،یہ بھی ذکر ہے درود شریف بھی ذکر ہے ،قرآن بھی اسی کاذکرہے۔ہمارے آقاحضورﷺ نے فرمایا: ’’سب سے افضل ذکر لاالہ الااللہ کہناہے‘‘،یہی ہمارے دین کی بنیاد ہے یہ ایک مرتبہ دل سے پڑھنے سے آدمی مسلمان ہوجاتاہے اور جب یہ بار بار کثرت سے کہتاہے تو پھر مومن کے درجہ کو پہنچتاہے،قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کبھی سب کو یاایھاالناس کہہ کر مخاطب فرمایاہے توکہیں صرف یاایھاالزین اٰمنوکہہ کر صرف مومنوں کو مخاطب کیاہے،سورۃ حجرات میں ارشاد ہے :’’یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ،آپ کہہ دیجئے تم ایمان تو نہیں لائے لیکن مسلمان ہوئے ہواور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہواہے،مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتاہے کہ تم کو ایمان کی دولت دی‘‘(آیت ۱۴تا۱۷)۔اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں بھی مسلمان اور مومن میں فرق تھا،ہرمسلمان مومن نہیں ،توپھر مومن کون ہے؟یہاں قرآن پھر ہماری راہنمائی کرتاہے ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’الذین کتب علی قلوبھم الایمان‘‘یعنی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر ایمان لکھ دیاگیاہے،جب تک ایمان ہمارے دلوں کے اندر نہیں اُترتا ہم مومن کے درجے پر فائز نہیں ہوسکتے اب ایمان ہمارے دلوں میں کیسے اُترے گا؟یہ کثرت ِ ذکر سے اُترے گا،لاالہ الاللہ کی کثرت سے اُترے گا،لاالہ الااللہ ایک ایساکلمہ ہے جس کی شان میں جتنا بھی لکھاجائے کم ہے،تمام انبیاء اس کے تسلسل کیلئے اتارے گئے ہر نبی کو اللہ نے یہی تعلیم کیاہر نبی کو اللہ نے یہی تعلیم کیاہرنبی نے اللہ کی وحدانیت ہی اُمت کوتعلیم کی۔موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ،اے پروردِگار مجھے ایساکلمہ بتا جس سے میں تجھ کویاد کروں اور تجھ سے دعامانگوں،اللہ پاک نے فرمایااے موسیٰ کہہ لاالہ الااللہ،موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیایاپروردِگار یہ تو تمام بندے پڑھتے ہیں تو مجھے ایسا کلمہ بتا جو صرف مجھ سے خاص ہو،اللہ پاک نے فرمایا ،،اے موسیٰ اگر تمام آسمانوں کو زمین کو اور جو کچھ اس میں ہے سوائے میرے ،ایک پلڑے میں رکھ دیاجائے اوردوسرے میں لاالہ الااللہ کورکھاجائے تو لاالہ الا اللہ کاپلڑابھاری ہوگا۔اسی لاالہ الااللہ کی کثرت میں ہی تمام راز پوشیدہ ہے،رسالت سے ولایت تک اسی لاالہ الااللہ کاتسلسل ہے تمام اولیاء کرام نے بھی اسی کو تعلیم کیا،حضرت ابوذرغفاریؓ سے روایت ہے کہ میں حضورپاکﷺ سے عرض کی یارسول اللہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔آپﷺ نے فرمایا:’’یعنی جب تم برائی کربیٹھوتواس کے بعد ایسی نیکی کروجواس برائی کو مٹادے۔‘‘میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا لاالہ الااللہ بھی نیکی ہے؟آپﷺ نے فرمایا ’’یہ تمام نیکیوں سے افضل نیکی ہے۔‘‘ لاالہ الااللہ سے جس قدر انوار انسان میں سرایت کرتے ہیں اس قدر کسی بھی اور عمل سے نہیں کرتے،جب اسکی کثرت ہوگی توانوار کی کثرت ہوگی اور نور دِل میں اُترنا شروع ہوجائے گا جب نو ردِل میں اُترے گا توقلب کی سیاہی کو دھوکر اسے شفاف کرے گااور مسلمان مومن کے درجے پرفائض ہوگاپھر اسم ذات اللہ اس کے دل پر نقش ہوجائے گاتب پھرآدمی اس حالت کو پہنچ گیا جس کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے (ترجمہ)’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب پر ایمان لکھ دیاگیا ہے اور ان کو اللہ نے اپنی روح سے مدددی ہے۔‘‘کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بس نماز اور قرآن ہی اللہ کاذکر ہے۔مگرارشادِباری تعالیٰ ہے :(ترجمہ) ’’جو ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے وہ تلاوت کرو،نماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کاذکر تو سے بڑی شے ہے۔‘‘(سورۃ عنکبوت،آیت ۴۵)،سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں لاالہ الااللہ قرآن کریم کانچوڑ ہے جس نے لاالہ الااللہ کہا اس نے گویا پورا قرآن پڑھا،اور لاالہ الااللہ کاعرق یانچوڑ اسم ذات اللہ ہے اور اسم ذات کاعرق ھُو ہے،گویا جس نے اللہ کہا اس نے لاالہ الااللہ کہا،گویا اللہ ھُو کاذکر لاالہ الااللہ کاہی ذکرہے۔ہمارے پروردِگار کے بے شمار صفاتی نام ہیں جن کی تجلیات کے تحت یہ کائنا ت قائم ہے اِن ناموں میں سے ہمیں ۹۹نام معلوم ہیں،تمام صفاتی نام اس کی اسی مخصوص صفت کوظاہر کرتے ہیں مثلاًرب،رحمن،رحیم،ہمارے خالق کاذاتی نام اللہ ہے چونکہ اللہ تمام صفات کا مرکز ہے اس لئے جب ہم اسم ذات اللہ کاذکر کرینگے تو جو انوارتمام صفاتی ناموں سے پکارنے پر ہمیں حاصل ہونگے وہ صرف اسی ایک ذکر سے حاصل ہونگے توآپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اللہ ھُو کے ذکر کے انوار وبرکات کس قدر ہونگے۔اللہ ھُو وہ طلسماتی ذکر ہے جس کے کرنے سے خوابیدہ قلوب بیدارہوجاتے ہیں اور نور سے چمکتے ہیںجس طرح اہل زمین کوستارے چمکتے ہوئے نظرآتے ہیں اسی طرح اہل آسمان کوچمکتے ہوئے قلوب نظرآتے ہیں۔حضورپاکﷺ نے فرمایا:’’اللہ تمہارے اعمال اورصورتوں کو نہیں بلکہ تمہارے قلوب اور تمہارے نیتوں کو دیکھتاہے۔‘‘جب ایک بار قلب کا منہ کھل جائے توپھر بند نہیں ہوتا بلکہ ہروقت ذکرالٰہی میں رہتاہے چاہے انسان دنیاوی کاموں میں مصروف ہو،کھڑاہو،بیٹھاہویاسویاہواہوتب بندہ اپنے رب کے اُس حکم کی تعمیل میں ہوجاتاہے جوپروردِگار نے قرآن کریم میں فرمایاہے۔(ترجمہ)’’جب تم اپنی نمازوں سے فارغ ہوجائوتواللہ کاذکرکروکھڑے بیٹھے اور کروٹوں کے بل۔‘‘خواتین و حضرات !اسم ذات اللہ حضور پاکﷺ کوعطاہوااِن کے بعد صحابہ کرامؓ کو ملا،پھر بارہ اماموں کواس اسم کافیض ملاجووقت کے غوث ہوئے اور کسی بھی ولی کو ان کے واسطے کے بغیر یہ فیض نہیں ملاپھر سب اماموں سے انفرادی طورپر یہ اسم جناب حضور غوث پاکؓ کو ملااسی وجہ سے آپ کو غوث الاعظمؓ کہتے ہیں،یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے کہ ہم ذکر قلب حاصل کریں اور اسم ذات کا بیج اپنے سینوں میں ڈالیں جس کے بارے میں سلطان باھُو ؒ نے فرمایاہے : الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشدمن وچ لائی ھُو۔اپنے آپ کو اور مرشد کو پرکھنے کاطریقہ یہی ہے کہ آپ ذِکرقلب حاصل کریں اگرآپ کاذکر قلب جاری ہوجاتاہے توآپ خوش نصیبوں میں سے ہیں اورآپ کا مرشد کامل ہے،اگرجاری نہیں ہوتا توآپ کا مرشد ناقص ہے یاآپ کانصیبہ کسی دوسرے مرشد کے پاس ہے کیونکہ کامل ذات ایک نظر میں،کامل ممات یعنی وہ ولی جوپردہ فرماگئے تین دِن میں،اور کامل حیات سات دِن تک قلب کامنہ کھول کر ذاکرقلبی بنادیتے ہیں اگرکوئی مرشدسات دِن سے زیادہ ٹال مٹول سے کام لیتاہے توبہترہے کہ اس سے جداہوجائے اور اپنی عمر عزیز ضائع نہ کرے۔دوستو ! یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ہرکام اسباب کے ذریعے فرماتاہے چنانچہ اس کام میں بھی وہ اپنے برگزیدہ بندوں اوردوستوں کو سبب بناتاہے جو اس کے فضل و کرم سے لوگوں کے قلوب کومنور فرماتے ہیں،آج دنیا میں بے شمار اولیا ء اللہ روشنی پھیلارہے ہیں اور ذکرقلب کافیض بانٹ رہے ہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ اگرآپ کے مرشد ہیں تو اُن سے یہ دولت ضرور حاصل کریں اگرآپ کو کوئی ایسی ہستی تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی ہے تو پھر آپ اس مقصد کے لئے ہم سے رابطہ کریں ۔حضور پاکﷺ نے فرمایا :’’جوکوئی خداتعالیٰ کے دائمی فرض کو ادانہ کرے اللہ اس کے وقتی فرائض کو قبول نہیں کرتا۔‘‘سلطان باھُوؒ نے فرمایا : ’’جودم غافل سودم کافر۔‘‘اولیاء اللہ فرماتے ہیں :’’دِل یارول ہتھ کاروَل‘‘۔یعنی دل اپنے دوست کی جانب اورہاتھ اپنے کام کی طرف رہے۔ذکر قلب ہی کی بدولت دائمی فرض احسن طریقے سے اداہوسکتاہے ہمارے لئے یہ ایک بہت بڑ ی سعادت ہے اور ربِ کریم کی عنایت ہے کہ ہم ذکر قلب کے حامل ہوں اور ہر وقت اللہ کے ذکر میں رہیں اپنادائمی فرض اداکرتے رہیں تاکہ ہماری دوسری عبادات بھی بارگاۂ رب العزت میں مقبول ہوںاور اِن سب کیلئے مقصد صرف رب کی خوشنودی اور اُس کی رضاہونہ کہ دنیاوی مال ودولت،ترقی اور شہرت کیونکہ یہ چیزیں تو آپ کے نصیب میں لکھی جاچکی ہیں اور حسب نصیب آپکو مل کررہیں گی نیت صرف اللہ کی عبادت اور اُس کی خوشنودی ہی ہونی چاہئے یہی طریقت ہے،یہی تصوف ہے اور یہی روحانیت ہے اور اس روحانیت یاطریقت کا آغاز ذِکر قلب سے ہوتاہے،ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ بھی ذکرقلب حاصل کریں اور اپنا نصیب آزمائیں اگراللہ نے چاہاتو دِل کی خالی ٹک ٹک اللہ اللہ میں تبدیل ہوجائے گی۔(وماعلینا الا البلاغ المبین)