![]() |
| Fazal e Haq Rohani (online) Magazine July 2025 |
قارئین محترم!
السلام علیکم!!
فضل حق (آن لائن روحانی میگزین) ماہِ محرم کا شمارہ آپکے سامنے ہے،شدیدترین
گرمی اور غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باوجوداللہ کے خصوصی کرم سے اِس ٹارگٹ کوہم پوراکرنے
میں کامیاب ہوئے۔اسلامی سال کے اِس پہلے ماہِ مبارک محرم الحرام میں آج سے تقریباً
چودہ سوسال قبل جوکچھ ہوااِس پر دفتروں کے دفترلکھے جاچکے ہیں اور تاحل لکھے جارہے
ہیں لیکن یہ اتنا بڑاموضوع ہے کہ اِس پر کچھ لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔شہزادہ کونین
حضرت سیّدناامام حُسینؑ نے جوعظیم ترین قربانی دی وہ اتنی عظیم ہے کہ اِس کے سامنے
سب کچھ ہیچ ہے ۔سات محرم الحرام کو یزیدی فوج نے پانی بندکردِیااور ۱۰محرم الحرام بروز جمعہ کملی والے
ﷺ کاخاندان کاخاندان کربلاکی تپتی ریت پر شہید کردِیاگیا۔اِس نقطے کو سمجھیے گا آپ
کو پیغام گوہرؔشاہی سمجھ میں آجائے گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے حبیب ﷺ سے فرمایاکہ
:۔’’ اے میرے محبوبؐ! جہاد کروکافروں
کے ساتھ اور منافقوں کے ساتھ ۔‘‘آقاکریمﷺ نے جتنے بھی
غزوات کیے مقابلے میں کون تھے؟یہود و نصاریٰ تھے،کافرتھے،عیسائی تھے،یہودی تھے یہ اسلام
اور کفرکی جنگ تھی ۔یادرکھیے گا! اسلام اور کفرمیں پہچاننا بڑاآسان کام ہے۔یہ اسلام
والاہے،یہ گلے میں صلیب پہنی ہے یہ عیسائی ہے ،یہ یہودی ہے ،یہ بت پرست ہے بڑاآسان
کام ہے ۔کربلامیں جس جنگ کا آغازہوتاہے ،اگریزید کی فوج میں ایک بھی یہودی ہوتا،ایک
بھی عیسائی ہوتا کوئی ایک بھی مشرک ہوتاتو کوئی بڑی بات نہ ہوتی ،ہزاروں کی تعداد کالشکر
اگرہے تو سارے کلمہ پڑھنے والے ہیں۔معلوم ہوا کہ آج حسین؈ حق اور باطل کے معرکے کا
آغازکررہے ہیں۔کربلا کی جنگ کوئی کفراور اسلام کی جنگ نہیں ہے کربلاکی جنگ حق اور
باطل کی جنگ ہے۔کفراور اسلا م میں تمیز کرنا آسان ہے حق اور باطل میں تمیز کرنا بہت
مشکل ہے ،اگرآسان ہوتا تو کلمہ پڑھنے والے عالم،حافظ قرآن حسین ؈کوتنہاچھوڑ کے بے
بس و بے یارومددگار نہ چھوڑتے۔ایک کردار ہے یزید کا اور ایک کردارہے امام عالی مقام
؈ کا ،ایک کردار عوام کا بھی ہے۔ہم امام عالی مقام ؈ کی فضلیت کم وبیش ۱۴۰۰سالوں سے سن رہے ہیں اور ہرسال
محرم ایسے لگتاہے جیسے کربلا ابھی ہوئی ہے۔نہ آپ ؈ کی شان کم ہورہی ہے نہ کربلاکے
واقعات ختم ہورہے ہیں۔لیکن اِس واقعہ میں جوایک پیغام پوشیدہ ہے اور جس کو بہت ہی کم
لوگ بیان کرتے ہیں یزیدکے بارے میں اُس کے فسق وفجور کے بارے میں بیان کرتے ہیں،امام کی شان بیان
کرتے ہیں لیکن وہاں ایک اور بھی کردار ہے وہ ہے ،ہجوم،جسے کوفے والے کہتے ہیں ۔اہل
کوفہ نے امام عالی مقام ؈ کو خط لکھ کربلایاتھا،خط میں کوئی کھانے کی دعوت نہیں تھی ۔جانتے تھے کہ امام حسین
؈ کون ہیں؟نبی ﷺ کا نواسہ ہیں آپ کی بیعت کرنے کیلئے بلایالیکن جب عین وقت آیاتو
کیاچیز راستے میں آگئی،دُنیا کی محبت رستے میں آگئی ،حاکم وقت کا ڈر رستے میں آگیا۔چودہ
سوسال پہلے دُنیا کی محبت کم تھی آج دُنیاکی محبت بہت زیادہ ہےچودہ سوسال پہلے حاکم
وقت کاڈر کم تھا ،آج تو سارے زمانے کے فتنے ایک طرف کردو ،دجال کا فتنہ سب سے مشکل
ہے۔اگرامام ؑ کو پہچاننا آسان ہوتا تو حافظ ِ قرآن پہچانتے،نمازی تھے کلمہ پڑھنے
والے تھے مگرامام ؑ کا ساتھ اُنہوں نے دیا جو صرف زبان سے کلمہ نہیں پڑھتے تھے بلکہ
جن کے دلوں میں نور تھا ۔عزیزانِ محترم! یہ ہے وہ مشن جو حضرت گوہرؔشاہی مدظلہ العالی
نے آج زندہ کیاہے کہ اگرحق وباطل کو پہچانناچاہتے ہیں تو صرف ظاہری عبادت کافی نہیں
آپ خواہ کسی مسلک سے ہیں اپنے دلوں کو اللہ کے نور سے منور کرلیں تاکہ آنے والے وقت
میں حق اور باطل کو پہچان سکیں۔فضل حق میگزین کا مختصر ساتعارف کرادیتے ہیں تاکہ نئے
لوگوں کو بھی اِس کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔فضل حق میگزین ایک آن لائن روحانی میگزین
ہے جس میں حقیقی روحانیت یاتصوف پرمبنی تعلیمات کوپیش کیاجاتاہے اور اولیاء کرام کی
تصانیف سے بکثرت استفادہ کیاجاتاہے اس کے علاوہ مرشد کریم کی تعلیمات کو بھی پیش کیاجاتاہے۔یہ
روحانی میگزین ۲۰۱۰ءسے شائع ہورہاہے پہلے
پہل تو یہ پرنٹ فارم میں شائع ہوتاتھا،پھر کچھ وجوہات کی بناپراس کو ۲۰۲۰ء میں آن لائن کردِیاگیا تاکہ
مرشد کریم اور تصوف کا یہ روحانی پیغام پوری دُنیا میں پھیلانے میں آسانی ہوسکے اور
لوگوں تک بھی یہ پیغام باآسانی پہنچ سکے۔فضل حق میگزین پاکستان کاواحد اُردو میگزین
ہے جو بلامعاوضہ پیش کیاجاتاہے جولوگ پبلیشنگ کی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے
ہونگے کہ میگزین کونکالنااُس کی ڈیزائننگ وغیرہ کرناکتنامشکل کام ہے اور اِس پر کتنی
محنت ہوتی ہے الحمدللہ ہم بلامعاوضہ تقسیم کرتے ہیں تاکہ دُنیاکے ہراِنسان تک مرشد
کریم کا روحانی پیغام پہنچ سکے۔اور یہ پیغام کوئی نیانہیں ہے یہ پیغام حضور پاکﷺ کے
دورِ اقدس سے شروع ہواہے اور تاقیامت جاری وساری رہے گا۔دورِ حاضرکواِس روحانی پیغام
کی اشد ضرورت ہے موجودہ دورکے تمام مسائل کا حل اِس روحانی پیغام میں پوشیدہ ہے کہ
اللہ کی محبت اور اللہ کے ذکر کواپنے دِلوں میں بسالو،دل کی خالی دھڑکنیں جو ہروقت
ٹک ٹک کررہی ہیں اُن کو اللہ اللہ میں لگالوتاکہ وہ ٹک ٹک کی بجائے اللہ اللہ پکارناشروع
کردیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ اگرشریعت پر بھی عمل پیراہونگے تو منزل پر پہنچنے میں آسانی
ہوجائے گی۔اس باطنی ذکر سے آپ کے اندر جو نور پیداہوگاوہ بھی ذاتی ہوگا اور یہی نور
حق وباطل کی پہچان ہے اور آنیوالے فتنہ پرورزمانے میں یہی نور آپ کی بقاکاضامن بھی
ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تعلیم اولیاء کرام نے اپنے اپنے دور میں عوام الناس
کودی اور اس پر بہت ساری تصانیف بھی لکھیں لیکن اُن تصانیف میں جو زبان استعمال ہوئی
ہے وہ اِس قدر مشکل ہے کہ اُس کو سمجھناعام آدمی کے بس سے باہر ہے۔لیکن دورِ حاضر
میں مرشد کریم نے اس قدر مشکل علم یعنی علم باطن کو انتہائی آسان اور عام فہم انداز
میں تحریر فرمایاہے جس کو معمولی پڑھالکھابندہ بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتاہے۔اور
اس روحانی میگزین کے اجراء کابھی یہی مقصدہے کہ مرشد کریم کی باطنی تعلیمات کو دُنیا
کے چپے چپے پر پہنچایاجاسکے تاکہ ہرشخص اِس روحانی دولت کو حاصل کرسکے جسے ’’ذِکرقلبی‘‘ کہتے ہیں اور یہ کسی کامل ذات
فقیر سے ہی عطاہوتاہے ہرکوئی یہ دولت ِ فقر عطانہیں کرسکتا۔آپ سے التماس ہے کہ اس
میگزین کو خود بھی پڑھیں اور اپنے عزیز،رشتے داروں اور دوست احباب تک بھی پہنچائیں۔(والسلام)
![]() |
| Fazal e Haq Rohani (online) Magazine July 2025 |


0 تبصرے