![]() |
| 9 Moharram Mehfil Yad-e-Hussan Gujar Khan (Report) |
گزشتہ برسوں کی طرح اِس بار بھی ۹محرم الحرام بروزہفتہ کو مرشد ِ پاک کے آبائی گائوں ڈھوک بابا گوہرؔعلی شاہؒ میں
شہزادہ کونین حضرت سیّدنا امام حسینؑ کی یاد میں اور مرشد ِ حق کے لخت ِ جگرحضرت سیّدنامنہاس
گوہرؔشہید ؒکے عرس مبارک کے موقع پر ایک عظیم الشان روحانی محفل کا انعقاد کیاگیاجس
کی سرپرستی مرشد ِ پاک نے فرمائی۔ اِس روحانی محفل میں ملک بھر سے علماء و مشائخ،مذہبی
اسکالرز،دانشور،اساتذہ کرام،نعت خواں،مریدین و معتقدین کے علاوہ خواتین و حضرات نے
بھرپور شرکت فرمائی گرمی کی شدت کے باوجود لوگوں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔پروگرام کاباقاعدہ
آغاز ۱۰بجے تلاوت ِ قرآن حکیم سے کیاگیا۔اور پھر حمد باری تعالیٰ اور نعت خوانی کا سلسلہ
جاری رہا۔کمپیئرنگ کے فرائض جناب غلام حسین گیلانی صاحب نے اداکیے۔
پنڈال کوبہت اچھے اندازمیں سادگی کے ساتھ سجایاگیاتھااسٹیج
پر پروگرام کے حوالے سے پینافلیکس بھی لگائی گئی تھی،اسٹیج پر درمیان میں مرشد ِ حق
کی مخصوص نشست موجود تھی جبکہ سرکارپاک کے دائیں جانب خاندان کے افراد کی مخصوص نشستیں
موجودتھیں،اور بائیں جانب اسٹیج انتظامیہ اور دیگرعہدیداران کی نشستیں موجود تھیں۔خواتین
کے لیے علیحدہ اور باپردہ انتظام موجود تھا۔سرکارمرشد ِ پاک کی تشریف آوری دِن بارہ
بجے ہوئی آپ کے ہمراہ آپ کے صاحبزادے جناب معظم گوہرؔاور خاندان کے دیگرافراد شامل
تھے،جیسے ہی مرشد ِ پاک اپنے آستانے سے باہر جلوہ گرہوئے مریدین و ذاکرین نے آپ کا
والہانہ استقبال کیا اور اللہ ھُو اللہ ھُو کاذکرکرتے ہوئے آپ کی دست بوسی کرنے لگےاور
آپ خراماں خراماں پنڈال کی طرف چل پڑے،پھر جیسے جیسے آپ پنڈال کے نزدیک ہوتے گئے
عوام کارش بھی بڑھتاگیااور آپ کمال تحمل اور خوشگوار اندازمیں تقریباً سب ہی سے ملتے
ملاتے ہوئے اسٹیج کی جانب گامزن رہے،عوام آپ سے ملاقات اور دِیدارکے لیے بہت بے چین
ہورہے تھے اور سرکار پاک بھی تبسم فرماتے ہوئے اسٹیج پرپہنچے وہاں پر اسٹیج پر
موجود صوبائی امیر جناب ساجد سہیل صاحب نے آپ کو خوش آمدید کہا اور آپ کی دست بوسی
کی،سرکار اپنی مخصوص نشست پر جلوہ افروزہوئے تو ایک قطار کی صورت میں محبین،ذاکرین
اور عوام الناس نے آپ سے ملاقات کرنی شروع کردی اور یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔پروگرام
کے سلسلے کو دوبارہ سے آگے بڑھایاگیااور شرکاء محفل کو مرشد ِ حق کا روحانی مشن بتانے
کیلئے اور کربلاکاروحانی پیغام پہنچانے کیلئے سرکار پاک کی اجازت سے صوبائی امیر جناب
ساجد سہیل صاحب نے شرکاء محفل کے سامنے بڑے ہی اچھے اندازمیں گفتگوکاآغازکیا جس میں
آپ نے فرمایا کہ :۔ آپ کے سامنے وہ وفا کا درس رکھنا چاہتاہوں اِس دور میں جس کی
ضرورت ہے کہ کربلا سے ہمیں وہ پیغام جوآج اللہ کے ولی روحانیت کا پیغام دے رہے ہیں
وہ کیسے ملتاہے ؟مَیں نے ایک موضوع بنایا ہے کہ اللہ فرماتے ہیں جواللہ کی راہ
میں مارے جائیں اُنہیں مردہ مت کہو ،تو شہید کون ہوتاہے؟اور شہید زندہ کیسے ہوتاہے؟اِس
کومَیں نے موضوع بنایاہے اور یقین جانیے اگریہ نقطہ سمجھ میں آگیا تو آپ کو تعلیمات
ِ گوہر ؔشاہی بھی سمجھ آئے گی۔اُس فخر انسانیت حضرت سیّدناریاض احمد گوہرؔشاہی مدظلہ
العالی کتنی خوبصورت بات فرمائی آپ کی تعلیمات بتارہی ہیں کہ حُسینؓ مذہب کانام نہیں
رہا ،جس کے سینے میں بھی اِنسانیت موجود ہے وہ حُسینؓ سے پیارکرنے والاہے ۔یہ فخرانسانیت
نے پیغام دیاکہ حُسینؓ کی کربلا میں جنگ کوئی اسلام اور کفرکی جنگ نہیں ہے ،کربلا
اگرفتح ہے تو اِنسانیت کی فتح ہے۔کربلا اگرجنگ ہے تو حق اور باطل کی جنگ ہے۔یہ کربلا
پیغام دے رہی ہے کہ تم دورِ آخر میں کس طرح حق کو پہچان کر حق کا ساتھ دیتے ہویااپنے
قلوب کو اندھیروں میں رکھ کر کہیں باطل کی طرف بھٹک جاتے ہو۔آپ اِس دورمیں کعبہ
چلے جائیں،روضہ رسولﷺ پر چلے جائیں یا حضور غوث پاکؓ کے دربار پرچلے جائیں آپ کو تعلیمات
ِ گوہرؔشاہی ہی ملیں گی،یاپھر اِس دور میں کربلاچلے جائیں تو آپکوتعلیمات ِ گوہرؔشاہی
ہی ملتی ہیں۔مرشد پاک حضرت سیّدناریاض احمد گوہرؔشاہی مدظلہ العالی نے فرمایا:۔ جواللہ
کی صفاتی نور پر یقین رکھتے ہیں جواُس کی صفات کے جلوئوں تک پہنچتے ہیں اُنہیں
وحدت الوجود والاکہاجاتاہے اور جو اُس کی ذات کا بغیر پردوں کے دِیدارکرتے ہیں اُنہیں
وحدت الشہودوالے کہاجاتاہے۔اِن دولفظوں میں سے ایک لفظ یادرکھیے گا وحدت الشہود لفظ
ِ شہود کویادرکھناہے۔شہود کامعنیٰ ہے کہ اُس کی ذات کے جلوے جب ہوں تو وہ شہود ہے
۔لفظ ِ شہود سے عربی زبان کو چارلفظ ملے ہیں مشہود،مشاہدہ،شاہداور شہید۔مشہود کون ہے؟اِس
وقت زمیں پر یہ ہستی جلوہ گر ہیں ،یہ مشہود ہے،ہم سارے اِن کا دِیدارکررہے ہیں،مشاہدہ
کررہے ہیں۔ہم سارے حاضر ہیں مشہود ہیں ،ہم سارے شاہد ہیں۔اب شاہد کا معنیٰ تین
لفظوں میں آیا ہے ،زندہ ،موجود،گواہی دینے والا اور مشاہدہ کرنے والا۔ہم مشاہدہ کررہے
ہیں کس ہستی کا ،جس کا مشاہدہ کررہے ہیں وہ مشہود ہیں۔شہید کامعنی ٰ بڑا مشکل سمجھنا
یقین جانو!اِنسان کے جسم سے جب روح نکلتی ہے ،عرشوں تک تو کوئی خوش قسمت ہوگا جس کی
روح پہنچتی ہوگی اُس کے بدن سے لیکر قبرتک پہنچنے میں ،اُس کے ماں باپ جواب دے جاتے
ہیں ،بہن بھائی،بیوی بچے جواب دے جاتے ہیں وہاں سے اگرساتھ شروع ہوتاہے تو مرشد ِ کامل
کا شروع ہوتاہے۔گھر سے لیکر قبر تک اور قبرسے لیکر حشر تک اگر تیری روح کو کوئی مددگار
ملتاہےتو کامل مرشد ملتاہے۔اس کے بعد پھر آپ کی درخواست پر مرشد ِ کریم نے تمام شرکاء
محفل کو ذکرقلب کی اجازت عطافرمائی۔اور پھر مختصر سے وقت کیلئے جناب محب بھائی نے شرکاء
محفل کو ذکرقلب کا طریقہ سمجھایا۔اِس کے بعد پھر محفل قصائد کاآغازہوا لاہور سے تشریف
لائے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ثناء خواں جناب ناصر حُسین گیلانی نے اپنی عقیدتوں کے نزرانے
پیش فرمائے ،نعت رسُولِ مقبول ﷺ سے آپ نے آغازفرمایااور پھر منقبت امام عالی مقامؑ
،اور مرشد کریم کے قصائداور کربلاوالوں کو سلام پیش فرمایا۔جس کو پنڈال میں بیٹھے سب
ہی لوگوں نے بہت ہی سراہا۔اس کے بعد قرآن خوانی کیلئے جناب ظہور احمد قادری صاحب کو
دعوت دی گئی جن کا تعلق بہاولپور سے تھا۔آپ نے کلام الٰہی کی تلاوت فرمائی اور پھر
اختتامی دُعاکیلئے ہمارے سینئرترین ذاکر جناب حاجی عبدالحفیظ صاحب کو دعوت دی گئی جنہوں
نے دُعافرمائی اِس اختتامی دعاکے بعد سرکار پاک واپس تشریف لے گئے ۔اور حاضرین محفل
کو لنگر پیش کیاجانے لگا۔

0 تبصرے