![]() |
| روزے کا مقصد |
روزہ اسلام میں تیسرا فرض رکن
ہے۔پہلارکن کلمہ ہے ،کلمہ پڑھنے سے انسان مسلمان ہوجاتاہے لیکن بار بار اس کی تکرار
اور الفاظ کے ٹکرائو سے جب کلمے کانور دل تک پہنچ جاتاتواس وقت انسان مومن کے مقام
پر پہنچ جاتاہے۔حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں کہ ؛۔زبانی کلمہ ہرکوئی پڑھدا،دل کاپڑھداکوئی
ھُو۔جس طرح دل کا کلمہ پڑھنے والے کم ہیں اسی طرح دل کی نماز پڑھنے والے بھی تھوڑے
ہی ہیں۔حضرت مجدد الف ثانی ؒ فرماتے ہیں کہ
عام لوگوں کی نماز صورت ہے جبکہ خاصانِ خدا کی نماز حقیقت ہے،حدیث شریف میں بھی آیا
ہے کہ؛۔لاصلوٰۃ الابحضور القلب۔(ترجمہ)’’نہیں ہوتی نماز لیکن دل کی حاضری کے ساتھ۔‘‘یعنی
دل کی حضوری کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور ایسے ہی لوگوں کو اللہ نے قرآن مجیدمیں حکم
دیا۔خبردار! دلوں کااطمینان اللہ ہی کے ذکر میں ہے،کیونکہ یہ لوگ ذکرالٰہی چھوڑچکے
ہیں۔
کلمہ شریف اور نماز،رکوع وسجود،تسبیح
وتہلیل سب عبادات زبانی اور وقتی ہیں لیکن روزہ تو ایک بھوک کانام ہے کہ سارے دِن بھوکے
پیاسے بیٹھے رہو۔آخر اس بھوک کابھی کوئی مقصد ہوگا،جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں جس طرح
فرض کے طور پر نمازیں پڑھ لیں اسی طرح فرضی روزے رکھ لئے لیکن یہ خبر نہیں کہ نمازیں
دل کو صاف کرنے کے لئے اور روزے نفس کوپاک کرنے کیلئے ہتھیارہیں اگر اِن سے نفس اور
قلب کی طہارت نہ ہوئی تو شاید پھر سب کچھ بیکار ہوجائے۔لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ
عبادت سے ملتاہے لیکن یہی ایک نقطہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عبادت سے نہیں بلکہ دل سے ملتاہے،عبادت
دل کو صاف کرنے کاذریعہ ہے جس عبادت سے دل صاف نہیں ہوسکتا تو پھر وہ عبادت صورتِ عبادت
ہے جس کی قبولیت کابھی کوئی اعتبار نہیں۔جس طرح نماز بے حیائی سے روکتی ہے اگر نماز
پڑھ کر بھی بے حیائی موجود رہتی ہے تو پھر وہ نماز ہی نہیں جس کے لئے ارشاد ہے۔بہشت
میں آدم ؑ ہر قسم کامیوہ کھاسکتے تھے لیکن گندم کی مخالفت تھی کیونکہ اس میں ناری
مادہ تھا اور وہی گندم جب ہاروت ماروت نے کھائی تو اِن میں بھی نفسانی خواہشات اُبھرآئیں۔ہماری
زمین یعنی یہ کرۂ ناسوت جنات کاعالم تھا،اس کی مٹی،ہوا اور پانی سب میں جنات کے مزاج
کے مطابق نارتھی جب آدم ؑ اس دنیا میں آئے تو بہشت کے میوے اور اناج آپ کو ملنا
شروع ہوگئے۔اِن کے بیج زمین میں ڈالے گئے جب فصل تیار ہوئی تو اس میں زمین کی نار بھی
شامل ہوگئی اور بار بار زمین میں کاشت سے آج ہر پھل اور اناج نار ہی نار ہوگیاہے۔علامہ
اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ؛۔
’’یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے‘‘۔
یعنی انسانی روح نہ نوری ہے نہ
ناری اس کوجیسی بھی غذا فراہم ہوتی ہے یہ ویسی ہی ہوجاتی ہے روزے کامقصد کہ سارادِن
معدے کو طعام کی نار سے خالی رکھویعنی نار کے لئے دروازہ بندکردوتاکہ نفس کونار کی
خوراک نہ ملے پھر اس حالت میں اللہ کاذکر بے شمار کرو۔یہ ذکر کلمہ ہویااسم ذات کے پاس
انفاس یاذکرقلب ہواس طرح نار کی جگہ ذکر کانور انسان کے جسم میں سرائیت ہوناشروع ہوجائے
گا پھر نمازیں باقاعدہ پڑھو،تراویح اداکرو اور قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ان عبادات کانور
جس میں فوائد ہیں نفس،قلب اور روح تک پہنچ جائے گا اور کچھ تزکیہ اور تصفیہ ہوناشروع
ہوجائے گا اگراس تزکیہ اور تصفیہ میں کچھ کمی نظرآئے تو چاہیے کہ پھر رمضان کے آخری
عشرے کواعتکاف میں بیٹھ جائیں یعنی دنیا کے معمولات،خواہشات اور خیالات کوچھوڑ کر مکمل
یکسوئی کے ساتھ عبادت میں مشغول ہوجاو،روزوں کاصحیح فائدہ مومن ہی اُٹھاسکتے ہیں جن
کے قلوب ذکر اللہ سے جاری وساری ہوگئے ہوں۔عام آدمی کوزبان کے ذریعے نور حاصل کرناہوتاہے
لیکن اکثریت ایسی ہے جن کے حلق سے نیچے قرآن بھی نہیں اُترتا۔
عام مسلمانوں کے لئے سال میں
ایک دفعہ قلب ونفس کی طہارت ضروری ہے اور یہ طہارت رمضان کے روزوں کے ذریعے حاصل کی
جاتی ہے،پھر جب سال کے دیگر ماہ میں نفس قوی اور قلب مرجھانے کوہوتے ہیں توپھر ماہ
ٔ رمضان شریف آجاتاہے۔اس ماۂ مبارک میں روزہ داروں کے گناہ بھی معاف کئے جاتے ہیں
اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں بھی اِن پرنازل ہوتی ہیں اور اسی ماہ میں روزہ داروں
کاکافی بوجھ ہلکاہوجاتاہے۔یادرکھیں! اِن فرض روزوں سے انسان کانفس صرف سدھر سکتاہے
پاک نہیں ہوتا۔کچھ لوگوں نے اپنے نفسوں کوبھی پاک کیااور اس طرح وہ ساری عمر کیلئے
فلاح پاگئے لیکن اس کے لئے وہ جنگلوں میں رہے،کئی سال نفلی روزوں میں گزارے اور ہروقت
ذکر وفکر اور نوافل میں مصروف رہے تب جاکر نفس کی پاکی حاصل ہوئی اور جب اِن کا نفس
پاک اور قلب صاف ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے اِن کی دوستی ہوگئی۔حدیث شریف کے مطابق کہ
؛۔’’بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے اتنا قریب ہوجاتاہے کہ میں اس کی زبان بن جاتاہوں اور
اس کے ہاتھ بن جاتاہوں۔‘‘۔بہت سے لوگ روزے رکھتے ہیں لیکن نفلی عبادت سے محروم رہتے
ہیں حتیٰ کہ فرض نمازیں بھی نہیں پڑھتے جس طرح صورت نماز تباہی بن جاتی ہے اسی طرح
اِن کاروزہ بھی اِن کے لئے تباہی کاباعث بن جاتاہے کیونکہ اُنہوں نے طعام کی نار کو
جسم میں داخل نہ ہونے دیااور اس کی جگہ نور کوبھی نہیں پہنچایا۔اس طرح ناری قوتیں یکجا
ہوکراس خالی جگہ داخل ہوجاتی ہیں اور وہ شخص پہلے سے زیادہ نفسانی ہوجاتاہے۔سادھولوگ
بھی تین تین دن کاروزہ رکھتے ہیں طعام کی نار جسم میں داخل نہیں ہوتے دیتے اور اس کی
جگہ آگ سینکتے رہتے ہیں اور آگ کی نار جواِن کے نفس کو زیادہ قوی بنادیتی ہے۔اس طرح
اِن کی رحمانی صلاحیتیں ختم ہوتی جاتی ہیں اور ناری صلاحیتیں ترقی کرتی جاتی ہیں اور
اِ ن کااستدراج یعنی ہوا میں اُڑنا،پانی پر چلنا اِن ہی طاقتوں کے ذریعے ہوتاہے اِن
کے نفوس ناری طاقت کے ذریعے جسم سے نکلتے ہیں اور یہی ہیں جو اپنے نفسوں کو دوسرے جسم
میں منتقل کرلیتے ہیںان کے مرنے کے بعد اِنکے نفس شیطان کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔انگریز
اور سادھو اِن نفسوں کے عمل تک پہنچ چکے ہیں۔ہندوئوں کاعقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد مردے
کی روح گھر واپس آجاتی ہے یاکسی دوسرے جسم میں جنم لے سکتی ہے،درحقیقت وہ یہی نفس
ہوتے ہیں جنہیں ہندو روح سمجھتے ہیں جب کہ وہ (انسانی روحیں ) علیین یاسجین میں فرشتوں
کی نگرانی میں بھیج دی جاتی ہیں جب اِن نفسوں کونوری غذا سے پروان چڑھایا جاتاہے تو
یہ رحمانی بن جاتی ہیں اس وقت ناری صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور رحمانی صلاحیتیں اُبھرآتی
ہیں۔اس وقت اس نفس کے علاوہ اور رحمانی مخلوقات بھی جسم سے نکل سکتی ہیں جیساکہ واقعہ
ہے کہ ایک دفعہ کسی نے مجدد الف ثانی ؒ سے
پوچھا کہ میں نے آپ کو فلاں دِن خانہ کعبہ میں دیکھا۔آپ ؒ نے فرمایا میں تو نہیں
گیا۔دوسرے نے کہامیں نے اُسی دن حضور پاکﷺ کے روضے پر دیکھا۔آپؒ نے فرمایا میں تو
نہیں گیا۔تیسرے نے کہا میں نے اسی دِن غوث پاکؓ کے روضے پر دیکھا۔آپؒ نے فرمایا میں
نہیں گیا۔لوگوں نے پوچھا یہ کیاماجرا ہے؟آپؒ نے فرمایا یہ میرا اندر تھا ۔ان رحمانی
لوگوںکے روحیں بھی اپنے مقام علیین میں چلی جاتی ہیں اور اِن کے یہی نفوس قدسیہ اِن
کے درباروں سے لوگوں کو فیض پہنچاتے رہتے ہیں اور قیامت تک فیض پہنچاتے رہیںگے اور
اِن کا ثواب اِن کی روحوں کوملتارہے گا۔بہت سے لوگوں نے اِن درباروں سے ناسوتی فوائد
کے علاوہ ولایت بھی حاصل کرلی جیساکہ فقیر نور محمد کلاچی والوں کو سلطان باھُو ؒ کے
دربار سے فیض ہوا۔خواجہ صاحبؒ کوداتا صاحبؒ کے دربار سے فیض ہوا۔فیض حاصل کرنے کے بعد
آپ ؒ کے یہ اشعار آج بھی داتا صاحبؒ کے روضے پر مرقوم ہیں:۔ گنج
بخش فیض عالم مظہر نور ِ خدا۔ناقصاں راپیر کامل راراہنما۔
ثابت یہ ہواکہ روزہ کامقصد انسان
کے اندر کی مخلوق کوجگانا اور اس کو نوری غذا پہنچاناہے اور اگراِن کو غذانہ پہنچاسکے
تو روزوں سے مستفیض نہیں ہواجاسکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ کم سونا کونسی عبادت ہے؟جوں
ہی اندھیراہوتاہے اس وقت سے لیکر آدھی رات تک اس دنیامیں جنات کی محفلیں لگتی ہیں
اور آدھی شب کے بعد فرشتوں اور پاکیزہ ارواح کانزول ہوتاہے تب وہ جنات کی محفلیں درہم
برہم ہوجاتی ہیں آدمی جب سوتاہے تو اس کانفس جسم سے نکل کر اِن محفلوں کوڈھونڈتاہے
اور اپنی غذا حاصل کرلیتاہے اگرآدھی رات تک انسان جاگتارہے توپھر سونے کے بعد نفس
کو شیطانی محفلیں نہیں ملتیں جس سے وہ خوراک حاصل کرے یہی وجہ ہے کہ آدھی شب سے پہلے
خوابوں کاتعلق شیطان سے ہی ہوتاہے۔رمضان شریف میں تراویح کے اہتمام کامقصد بھی یہی
ہے کہ آدھی شب تک انسان جاگتارہے تاکہ نفس جسم میں قید رہے،لوگ کہتے ہیں کہ رمضان
میں شیطان کوبندکردیاجاتاہے۔اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمہارے اندر کے نفس شیطان کوبندکیاجاتاہے
تاکہ باہر سے اس کی ناری خوراک اندر داخل نہ ہوسکے۔اس لئے ہر روزہ دار کے لئے ضروری
ہے کہ وہ ماۂ رمضان میں کم کھائے اور رات کم سوئے اورباتیں بھی کم کرے،ہروقت کی عبادت
کا راز سیکھے یعنی ذکر پاس انفاس یاذکرقلب کرے جس طرح افسر کا ٹی اے،ڈی اے عام ملازم
سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح مسلمان سے زیادہ فائدہ مومن کو روزے سے حاصل ہوتاہے اور ولی
کومومن سے بڑھ کرثواب ملتاہے۔رمضان کامہینہ برکتوں والامبارک مہینہ ہے اللہ تعالیٰ
کی رحمت اور انوار وتجلیات کی بارش اس ماہ دنیا پر برسنا شروع ہوجاتی ہے،رحمت گناہگاروں
کیلئے ہے۔انوار سے مومنین کے قلوب جگمگا اُٹھتے ہیں اور تجلیات سے ولیوں کے مراتب بلند
ہوتے ہیں اس ماہ ٔ مبارک میں ایک طاق رات سب کیلئے آتی ہے جس میں روحیں فرشتے اور
حضور پاکﷺ کی روح مبارک مسلمانوں کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔یہ روحیں اور فرشتے زمین
پراُتر کرسنتے اور دیکھتے ہیں کہ اس رات جہاں بھی کوئی عبادت میں مصروف ہواس کے لئے
دعاکرتے ہیں۔لیکن منافق اور گستاخانِ رسولﷺ اس نعمت سے محروم ہی رہتے ہیں۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے
کے اسبا ق :۔
رات کسی بھی وقت صلوٰۃ وتسبیح
اور لطائف کی محفل ذکر نہایت ضروری ہے لہٰذا پہلے یہ پڑھ لیں۔اس کے بعد دوسرے اسباق
پڑھنے ہیں۔
صلوٰۃ الاسرار : ۔ دورکعت نماز نفل’’الحمد‘‘ کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ
اخلاص پڑھنی ہے،نماز کے بعددائیں طرف مڑ کر تین مرتبہ یاحضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
شیاً اللہ پڑھیں ،پھر بیٹھ جائیں۔
ایک تسبیح مندرجہ ذیل پڑھیں؛۔
لاالٰہ اِلا اللہ وَحدہ‘ لاشریک
لہ‘ اَحد ً صمدً لم یلدولم یولد ولم یکن لہ‘ کفواً اَحدo
) اسم اعظم کے ذکر کی کم ازکم ایک ورنہ جتنی ہوسکے ضرور تسبیح کریں ،اسم
اعظم یہ ہیں:۔
(یااللہ)،(یارحمن)،(یارحیم)،(یاحی
یاقیوم)،(یاذوالجلال والاکرام)۔
(۴) ذکرلطائف کی کم ازکم ایک مرتبہ ورنہ جتنی زیادہ ہوسکے تسبیح پڑھیں ذکرلطائف
یہ ہیں۔
ذکر:۔(لاالٰہ الا اللہ )،(یااللہ)،(یاحی
یاقیوم)،(یاواحد)،(یااحد)،(یاھُو)،(لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ)
تصور :۔ (اللہ)،(لہ‘)،(ھُو)،(محمدﷺ)،(فقر)،(اللہ
محمدﷺ)،(اللہ)۔
بارہ بجے کے بعد مندرجہ ذیل نوافل
پڑھیں۔چھ رکعت نماز نفل دو،دورکعت کی نیت سے پڑھیں ہر رکعت میں الحمد کے بعد گیارہ
مرتبہ سورۃ اخلاص(قل ھو اللہ) پڑھیں۔نماز مکمل کرنے کے بعد گیارہ مرتبہ صلی اللہ علیک
یامحمدﷺ پڑھیں اور پھر فاتحہ خوانی کرکے اس کا ثواب تمام بزرگوں اور غوث پاکؓ کوبخش
دیں اس کے بعد تین مرتبہ مندرجہ ذیل کلمات پڑھیں۔
’’یااللہ ! چھوڑی میں نے دنیااور آخرت وصل کرتیرا اوپر میرے حاضرانِ
حاضر ہے ذات تیری۔‘‘
نماز سے فارغ ہونے کے بعد مندرجہ
ذیل تسبیحات تعداد کے مطابق پڑھیں؛۔
(۱) لاالٰہ الااللہ،دوتسبیح،(۲) الااللہ،تین
تسبیح،(۳)
اللہ،دوتسبیح،(۴) اللہ ھُو اللہ،چھ تسبیح،(۵) الحمد للہ،تین تسبیح،(۶) سبحان اللہ،ایک تسبیح،(۷) یاقہار،ایک تسبیح،(۸) یارحمن،ایک تسبیح،(۹) یاحی یاقیوم،ایک تسبیح،(۱۰) صلی
اللہ علیک یامحمدﷺ،پانچ تسبیح۔
تسبیحات کے بعد فاتحہ پڑھیں اور
بزرگانِ دین کے بخش دیں۔جولوگ اعتکاف کریں انہیں نمازِ فجر کے بعد دعائے سیفی پڑھنی
ہے۔
طریقہ مراقبہ قادر ی منتہی
:۔تین مرتبہ درود شریف،تین مرتبہ آیت الکرسی،تین مرتبہ سلام قولاً من رب الرحیم،تین
مرتبہ کلمہ تمجید اور تین مرتبہ کلمہ طیبہ(کلمہ طیبہ پڑھتے وقت اسم اللہ اور اسم محمدﷺ
پرنظررکھیں)۔ہاتھوں کو پھونک کر جسم پر ملیں۔آنکھیں بند کرکے جس مقام پرپہنچناہو تصور
کریں اور ذکر خفی کریں۔مرشد کریم کاچہرہ مبارک آئینہ کی طرح سامنے رکھیں،کیونکہ بغیر
وسیلہ کے مراقبہ درست نہیں،مربع بیٹھیں اور سر کو زانوں میں لے جائیں،سانس اندر اور
باہر نکالتے وقت دماغ اور ناک سے ’’ھُو‘‘ نکالیں اور دل میں اسم ’’اللہ‘‘ کانقش جمائیں
یہاں تک کہ تصور میں ڈوب جائیں۔

0 تبصرے