قطرہ اور قلزم
قطرہ اور قلزم

کسی شے کو چھوٹا سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے یادور سے دیکھا جائے یاغرور سے دیکھا جائے،ورنہ اگر اسے قریب سے دیکھاجائے،عزت سے دیکھاجائے تو وہی شے اپنے اندر اِک جہان رکھتی ہے،اِک ذرہ بے مانہ،اپنے اندرسرمایہ گرانمایہ رکھتاہے،ذرے کا دل چیراگیاتو کتنے آفتاب لرز گئے،اسی طرح قطرے کے اندر وسعت بے کراں ہے،وہ اپنے دل ہی دل میں خود کو قلزم ساز سمجھتاہے ہے،بلکہ قلزم نواز سمجھتاہے،وہ سمجھتاہے کہ اس کے دَم سے کائنات کی زندگی ہے،ہرسے کی زندگی پانی سے ہے اور پانی اساس قطرہ ہے،یہ قطرے کاتصور ہے اپنے بارے میں،اسی طرح قلزم خود کو قطروں کاخالق ومالک سمجھتاہے وہ چاہے تو قطروں کو جدائی کے سفر پر روانہ کردے اور چاہے توانہیں وصال کی عطاکیلئے روبرو حاضر کرلے،بہرحال یہ قطرے اور قلزم کاکھیل ہے،اصل اور اول کون ہے؟وہ جسے موت نہیں آتی،وہ جسے تبدیلیاں تبدیل نہیں کرسکتیں،وہ جسے ہمیشہ ہمیشہ سے قیام ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے،وہ جسے قابوکرنا،بس میں کرنا،اختیار میں لانا،مسخرکرنا ناممکنات میں سے ہے،قلزم اپنی تنہائیوں اور مستیوں میں حیّ وقیوم ہے لیکن قطرہ اپنی تنہاذات میں بقا حاصل نہیں کرسکتاوہ قلزم کی پناہ میں ہے تو ہے،ورنہ اِس کاہونا ہی نہیں ہوسکتا،قلزم آشنا نہ ہو تو قطرہ،مرگ آشناکردیاجاتاہے،قطرے کی تنہائی اس کی موت ہے،قلزم سے دوری اس کی فنا ہے،قلزم اس کی زندگی کی ماخذہے اور ماخذ سے کٹ کر زندگی زندہ نہیں رہ سکتی،قطرہ ہزار شبنم بن،ہزار آنسوبنے،اشک ِ ندامت ہوکہ نوکِ خار پر رقص کرنے والاقطرہ اپنے منفرد وجود میں موجود نہیں رہ سکتا،سورج کی عنایت سے پہلے ہی شبنم فنا ہوچکی ہوتی ہے،بہر حال قطرہ اگر وصالِ بحر سے محروم ہوتو وہ قطرہ ہی نہیں رہ سکتا،اس کا وجود جس ذات کا مرہونِ منت ہے اسی کے دم سے ہی قائم رہ سکتاہے،نہیں تو نہیں!تعجب کی بات تویہ ہے کہ اگرقطرہ وصالِ بحر حاصل کرلے تو بھی وہ نہیں رہ سکتا،سمندر میں شامل ہوکر قطرہ،قطرہ تو نہیں رہے گا،سمندر بن جائے گا،ہزار بار بن جائے،وہ قطرہ نہیں رہے گا،وہ جوتھا،نہ رہا،اب اور کیابن گیا؟سمندر نے قطرے کو ہمکنارکیا،آغوشِ رحمت میں لے لیا،اسے وسعت ِ بے کراں عطاکردی،اس کا اصل اس پر آشکار کردیا،اس پر ایسا حال طاری کیا کہ اس کا ماضی اب اس کا حال ہی نہیں مستقبل بھی ہے،اصل سے جدا ہوکر اصل میں ملنا،بڑی بات ہے،لیکن فراق میں قائم رہنے والاقطرہ وصال میں بکھرگیا،منتشر ہوگیا،پھیل گیا،سمندربن گیا،اور یوں اپنی ذات سے فناہوکر کسی اور ذات میں بقا پاگیا،ہر دوحالت میں قطرہ،قطرہ نہیں رہ سکتا،یہ وجود ہمیشہ نہیں رہ سکتا،یہ قلزم کافیض ہے،وہ فراق عطاکرے تو قطرہ فراق کی آگ میں سلگتاہوارخصت ہوجاتاہے اور اگروہ وصال عنایت فرمائے توبھی قطرہ اپنی ذات سے نکل کر ذاتِ محبوب میں گم ہوجاتاہے،گم ہوجانا توقطرے کامقدر ہے ہی سہی،کیوں نہ وہ منزل اورراستے میں گم ہو،’’بے راہ‘‘ راستوں میں گم ہونے والے’’دونوں جہاں‘‘ میں خسارہ پاگئے،خسارہ کیاہے ؟نفع کیاہے؟یہ بہت لمبی بات ہے،چند روزہ زندگی میں یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی کہ اصل کیاہے؟سودکیاہے؟نفع کیاہے؟ضررکیاہے یعنی نقصان کیاہے؟ہوناکیاہے؟نہ ہونا کیاہے؟اور کیا،ہونا نہ ہونا بھی ہوسکتاہے،کیاہم واقعی ہم ہیں،ہم کب سے ہیں،کب تک ہیں،اور کیوں ہیں؟کیا ’’قطرہ‘‘ فنا سے ڈر کے بھاگ رہاہے،یایہ فنا کے تعاقب میں بھاگ رہاہے؟وہ جوفانی ہوئے اِن کا نکال کر ’’باقی ‘‘ کی ہستی کیاہے؟اور وہ جو ’’باقی‘‘ سے واصل ہوئے اِن کے بغیر کیا ’’باقی ‘‘ کاوجود نہیں رہتا!سب کچھ،سب کے بغیر رہ سکتاہے تو یہ سب کچھ کیاہے؟یہی وہ سوال ہے جس کی تلاش میں،سفر کے دوران انسان کے نئے سوالات سے آشنائی ہوتی ہے اور پھر نئے جوابات کے حصول کا سفر ایک اور حقیقت سے آشناکراتاہے،محدود زندگی میں لامحدود گوشوں کی دریافت اِک عجب حال ہے،اتنی وسیع وعریض،جمیل و عظیم،ظاہری اور باطنی کائنات کے حسین اوراق کامشاہدہ اور مطالعہ کرنے کیلئے اتنے مختصر ایام،کیاکیاجائے،نظر محدود ہے اور نظارے لامحدود!صاحبانِ فکر ونظر آتے ہیں اور بیان کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں،کائنات جوں کی توں رہتی ہے اس کے ایک گوشے کے کسی ایک حصے کابھی بیان مکمل نہیں ہوسکتااور ابھی نہ جانے کیا کیاہے،لکھنے والا،اگرسمندر سیاہی بن جائیں اور درخت قلم ہوجائیں تو بھی بیان نہیں کرسکتے اس کی شان اورتسبیح جواصل کائنات ہے،مالک کائنات ہے خالق کائنات ہے،یہ بیان ممکن ہی نہیں،حسن بیان عطا ہوجائے تو بھی حق ِ بیان ممکن نہیں،قطرہ اپنے اندر قلزم کاجلوہ دیکھے یاقلزم کے اندر جاکراپنا جلوہ دیکھے،حقیقت حال کوبیان نہیں کرسکتا،قطرہ قطرہ قلزم ہوجائے تو بھی قلزم بیان میں نہ آئے گا،ہزار مضامین لکھو،بات بیان ہی نہیں ہوپارہی،ہزار ہالائبریریاں،علم کے چراغ،اخباروں کے کالم،مبلغین کی خیال آرائیاں،مشائخ کرام کی طریقتیں اور طور طریقے،سیاستدانوں کی تقریریں اور تحریریں اور کوششیں اور نہ جانے کیاکیا،اور پھر حکمرانوں کے احکامات،بس،حکم ہی حکم،یہ سب کوششیں ہیں حقیقت آشنائی کے انداز،اور پھر حقیقت بیان سے باہر،ہمیشہ ہی بیان سے باہر،وسعت ِ بیان مل بھی جائے تو بھی بیان ِ وسعت ممکن نہیں،بس صرف رونق ہے،صرف جلوہ ہے،دیکھنے والامنظر،غور والی بات،حاصل صرف فنا ہے،صرف اور صرف فنا!میرے بعد کیاہوگا؟،تجھ سے پہلے کیاتھا؟میں اِس کونہیں مانتا،تجھے کون مانتاہے؟میں علم تک پہنچ گیا،جہالت سے کب جداہوئے ہو؟میں سب کو فتح کرلوں گا،فتح کرنے کی خواہش ہی کو فتح کرلو؟میں ہمیشہ رہوں گا،کس کیلئے؟ تم جس کے لئے بھی رہوگے وہ ہمیشہ نہیں رہ سکے گا،میں کامیابی کاراز جانتاہوں،تم سے پہلے جولوگ یہ راز پاگئے تھے وہ کہاں ہیں؟بہرحال یہ کہانی ختم نہیں ہوسکتی ،نہ کوئی معیار آخری ہے نہ کوئی اسلوب انتہائی،لائبریری سے باہر بھی علم ہے،اور علم سے باہر بھی علم ہے،ایک جاننے والا دوسرے جاننے والے سے بے خبر بھی ہوسکتاہے ہم خود کومعیار سمجھتے ہیں اور دوسروں کوماپتے رہتے ہیں اِن کی خوبیاں اور خامیاں دریافت کرتے ہیں،ہم خود دوسروں کی زد میں ہیں،دوسرے اپنا اپنا معیار رکھتے ہیں،کوئی معیار آخری نہیں ،کوئی رازانتہائی نہیں یہ سارا منظر موجود ’’نظر‘‘ کامرہون ہے،آج کی کائنات ہی آج کے انسان کی ہے،کائنات انسان کی دسترس میں ابھی آیاچاہتی ہے اور انسان کائنات کی گرفت میں آبھی چکاہے،قطرہ قلزم کے روبرو ہی نہیں دوبدوبھی ہے،اور نتیجہ کیاہوگاسوائے اس بات کے کہ قطرہ،قطرہ نہ رہے گا،قطرے پرلازم ہے کہ وہ اپنی ہستی کے محسن وماخذ پر نظررکھے،وہ اپنے محبوب مونس اور غمگسار مالک سے رابطہ کرے،وہ کائنات اور کائنات کے خالق کو سمجھے،وہ اپنے اصل اور اپنے محبوب قلزم کی لگن میں رہے،یہی اس کی ہستی کی اسا س ہے،اگر جُز ہی خود شناس ہوجائے تو اسے ’’کل شناس‘‘ بننے میں دیر نہیں لگتی،دقت تو صرف اس بات کی ہے کہ انسان خود شناسی سے گریزاں رہتاہے وہ کائنات آشنائی کے سفر پر روانہ رہتاہے اور خود سے ناآشنا،خود سے جدا،خود سے بیگانہ،اپنے آپ سے اجنبی ہی رہتاہے،یہ وجہ ہے کہ علوم کی بہتات میں بھی جہالت کی کارفرمائی قائم رہتی ہے،ہم سب کچھ جانتے ہیں،سب کچھ پہچانتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں؟ہم کو کس نے نے اس جہان اجنبی میں نامعلوم مسافتوں پر روانہ کررکھاہے،اورپھر ہمیں عین سفر کے دوران اور سفر کے درمیان واپس بلالیاجاتاہے ،اگرجاناہی تھا توآناکیاتھا؟یہی عجب بات ہے،کہ فانی ہی باقی کاآئینہ ہے،کرنیں نہ ہوں تو سورج جاجلوہ کیاہے؟قدیم کاذکر صرف حادث ہی کی زبان سے سناگیا،انسان فانی ہے لیکن وہ باقی کی دھن میں ہے،اللہ باقی ہے لیکن وہ فانی ہی کو تخلیق فرماتاہے،اسی فانی سے محبت کرتاہے،اسی کے خیال میں رہتاہے،خالق اورمخلوق دونوں ایک دوسرے کے خیال میں رہتے ہیں،عقل کاحجاب اُٹھ جائے توجلوہ کچھ اور ہی ہے باقی کی محبت فانی کیسے ہوسکتی ہے؟باقی کامحبوب باقی ہی ہوگا!بہرحال قلزم کے جلوے،قطروں کے جلوے ہیں،نقش ونگار کی کثرت دراصل وحدت ہی کے جلوے ہیں،خیال ایک وسیع قلزم ہے،صاحب ِ خیال کی تخلیقات قطروں کی طرح ہیں ،قطرہ قطرہ تقسیم ہونے کے بعدبھی قلزم تو قلزم ہی رہتاہے،اس کی وسعتوں کو کچھ فرق نہیں پڑتا،خیال بیان ہوبھی بیان نہیں ہوتا،سمندر سے دس دریا نکال لئے جائیں تو بھی وہ جوں کاتوں ہے اور اگر اس میں دس دریا شامل کردئیے جائیں تو بھی وہ جوں کا توں ہی رہتاہے یہ صرف احساس کی بات ہے،تسلیم کی بات ہے،ورنہ کہاں قطرہ اور کہاں قلزم،قطرے کاوجود عطائے قلزم ہے اور قلزم کاوجود ماورائے قطرہ ہے،مصنف اپنے مضامین کو اپنی تخلیق سمجھتاہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خود ہی اپنی تصنیف کاخالق ہے،دراصل خیال کاخالق وہی ہے جو انسان کاخالق ہے،خیال جب چاہے،جہاں سے چاہے نمودارہوجائے،جس زبان سے چاہے بیان ہوجائے،جس قلم سے چاہے رقم ہوجائے،اس لئے اِن مضامین کو خالق خیال کااحسان مانتے ہوئے آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں،وہ چاہے تو صحراسے چشمے پھوٹیں،وہ چاہے تو بنجرسیراب ہوجائے،وہ چاہے تو تاریکی جگمگانے لگے،وہ چاہے تو انسان کو بیان کی دولت عطاہوجائے،وہ چاہے تو معصیت،مغفرت میں بدل جائے،وہ چاہے تو سرنگوں،سرفراز ہوجائیں قطرہ اپنی ہستی اور اپنی ہستی کی بے مائیگی کے علاوہ قلزم کو اور کیاپیش کرسکتاہے؟بس اپنی تخلیق،،،اپنے خالق کے نام۔